طول کلام

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - طول تکلم، فضول گوئی، بکواس۔ "اگر طول کلام کا خوف نہ ہوتا تو اس باب میں میں 'نقش ناپید' کے رمزی. کی طرف اشارہ کرتا۔"      ( ١٩٨٨ء، نگار، کراچی، اگست، ٩٠ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم 'طول' کے ساتھ کسرہ اضافت لگا کر عربی اسم 'کلام' لگانے سے مرکب اضافی بنا۔ اردو زبان میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٨٣ء کو "دربار اکبری" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - طول تکلم، فضول گوئی، بکواس۔ "اگر طول کلام کا خوف نہ ہوتا تو اس باب میں میں 'نقش ناپید' کے رمزی. کی طرف اشارہ کرتا۔"      ( ١٩٨٨ء، نگار، کراچی، اگست، ٩٠ )

جنس: مذکر